Download PDF
Back to stories list

کره خر گدھا بچہ Donkey Child

Written by Lindiwe Matshikiza

Illustrated by Meghan Judge

Translated by Abdul Rahim Ahmad Parwani (Darakht-e Danesh Library)

Language Dari

Level Level 3

Narrate full story The audio for this story is currently not available.


آن دختر کوچک بود که اول آن شکل مرکیله را از فاصله‌ی دور دید.

یہ ایک چھوٹی سی لڑکی تھی۔ جس نے دور فاصلے پر ایک پراسرار چیز دیکھی۔

It was a little girl who first saw the mysterious shape in the distance.


وقتی که شکل نزدیکتر شد، او دید که آن یک زن باردار سنگین است.

جیسے ہی وہ چیز قریب آئی، اُس نے دیکھا کہ وہ ایک حاملہ تھی۔

As the shape moved closer, she saw that it was a heavily pregnant woman.


دختر کوچک با شرمنده‌گی، اما شجاعانه، به آن زن نزدیک شد. خانواده‌ی آن دختر کوچک تصمیم گرفتند که “ما باید او را پیش خودما نگه داریم. ما از او و کودکش مراقبت خواهیم کرد.”

شرماتے ہوئے لیکن وہ بہادر لڑکی اُس عورت کے قریب گئی۔ ہمیں اسے اپنے پاس رکھنا چاہیے۔ چھوٹی لڑکی کے لوگوں نے فیصلہ کیا۔ ہم اسے اور اس کے بچے کو محفوظ رکھیں گے۔

Shy but brave, the little girl moved nearer to the woman. “We must keep her with us,” the little girl’s people decided. “We’ll keep her and her child safe.”


کودک به دنیا می‌آمد. “فشار بده!” “پتو بیاورید!” “آب!” “فشااااااااار بده! ”

بچہ پیدا ہونے والا تھا۔ زور لگاو! کمبل لے آو! پانی لاو! زور لگاو!

The child was soon on its way. “Push!” “Bring blankets!” “Water!” “Puuuuussssshhh!!!”


ولی وقتی آن‌ها کودک را دیدند، همگی از تعجب به عقب پریدند. “یک خر!؟”

لیکن جب اُنہوں نے بچے کو دیکھا ہر کسی نے حیران ہو کر پیچھے کی طرف چھلانگ لگائی۔ ایک گدھا!

But when they saw the baby, everyone jumped back in shock. “A donkey?!”


همگی شروع به بحث کردند. عده‌ای گفتند: “ما قرار گذاشته بودیم که از مادر و نوزاد او مراقبت کنیم، و سر قولما خواهیم ماند”. اما دیگران گفتند که “این‌ها برایمان بدچانسی می‌آورند! ”

سب لوگ بحث کرنے لگے۔ ہم نے کہا کہ ہم ماں اور بچے کو حفاظت سے رکھیں گے اور یہ ہی کریں گے۔ کچھ لوگوں نے کہا۔ لیکن یہ ہمارے لیے بد شگون ہیں۔ باقی کچھ نے کہا۔

Everyone began to argue. “We said we would keep mother and child safe, and that’s what we’ll do,” said some. “But they will bring us bad luck!” said others.


بنابراین آن زن دوباره خودش را تنها یافت. او پیش خودش فکر کرد که با این بچه‌ی عجیب و غریب چه می‌تواند بکند. او فکر کرد که با خودش چه کند.

اور اس طرح عورت نے خود پھر اکیلا پایا۔ وہ حیران تھی کہ وہ اس عجیب بچے کے ساتھ کیا کرے۔ وہ اس بات پر بھی حیران تھی کہ وہ اپنے ساتھ کیا کرے۔

And so the woman found herself alone again. She wondered what to do with this awkward child. She wondered what to do with herself.


اما در آخر او مجبور شد بپذیرد که آن خر، کودک خود اوست و او مادرش است.

لیکن آخر کار اُسے یہ قبول کرنا پڑا کہ یہ اس کا بچہ ہے اور وہ اُس کی ماں ہے۔

But finally she had to accept that he was her child and she was his mother.


حالا اگر کودک همانقدر کوچک می‌ماند همه چیز می‌توانست متفاوت باشد. اما، آن کره خر بزرگ و بزرگتر شد تا اینکه دیگر نمی‌توانست روی کمر مادرش جا بگیرد و با اینکه خیلی تلاش می‌کرد نمی‌توانست مانند یک انسان عمل کند. مادرش اغلب خسته و درمانده بود. بعضی وقت‌ها او را مجبور می‌کرد که کارهایی انجام دهد که مخصوص حیوانات است.

اب اگر بچہ چھوٹا رہتا تو ہر چیز مختلف ہوتی۔ لیکن گدھا بچہ بڑے سے بڑا ہوتا گیا حتیٰ کہ وہ اپنی ماں کی پیٹھ پر پورا نہ آتا۔ اور باوجود اس کے کہ اُس نے بہت کوشش کی لیکن وہ ایک انسان کی طرح برتاو نہ کر سکتا۔ اُس کی ماں اکثر تھک جاتی اور تنگ آجاتی۔ بعض اوقات وہ اُس سے جانوروں والے کام کرواتی۔

Now, if the child had stayed that same, small size, everything might have been different. But the donkey child grew and grew until he could no longer fit on his mother’s back. And no matter how hard he tried, he could not behave like a human being. His mother was often tired and frustrated. Sometimes she made him do work meant for animals.


احساس سردرگمی و عصبانیت در درون خر به وجود آمد. او نه می‌توانست این کار را انجام بدهد و نه آن کار را. او نه می‌توانست مانند انسان باشد و نه مانند حیوان. او به حدی عصبانی شد که یک روز مادرش را با لگد زد و به زمین انداخت.

کشیدگی اور غصہ گدھے میں بڑھتا چلا گیا، وہ یہ نہیں کر سکتا تھا وہ، وہ نہیں کر سکتا تھا، وہ ایسا نہیں ہو سکتا تھا، وہ ویسا نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ اتنا غصہ ہوا کہ ایک ان اُس نے اپنی ماں کو لات مار کر میدان میں پھینکا۔

Confusion and anger built up inside Donkey. He couldn’t do this and he couldn’t do that. He couldn’t be like this and he couldn’t be like that. He became so angry that, one day, he kicked his mother to the ground.


خرشدیدا احساس پشیمانی کرد. او شروع به فرار کرد و تا جایی که می‌توانست سریعا دور شد.

گدھا بہت شرمندہ تھا۔ اُس نے بھاگنا شروع کیا، جتنا تیز اور جتنا دور وہ بھاگ سکتا تھا۔

Donkey was filled with shame. He started to run away as far and fast as he could.


زمانی که دویدن را متوقف کرد، شب شده بود، و خر گم شده بود. “عرعر؟” در تاریکی به آرامی زمزمه می‌کرد، “عرعر؟” صدای عرعرش انعکاس داشت. او تنها بود. در یک چقری سخت دور خودش پیچید، او به یک خواب عمیق و آزاردهنده رفت.

وقت کے ساتھ اُس نے بھاگنا بند کیا، رات ہو چکی تھی اور گدھا کھو گیا تھا۔ ہی ہا؟ وہ اندھیرے میں سر سرایا۔ ہی ہا؟ آواز واپس گونجی۔ وہ اکیلا تھا خود کو ایک گیند کی طرح گول کر کے وہ ایک گہری اور درد ناک نیند میں سو گیا۔

By the time he stopped running, it was night, and Donkey was lost. “Hee haw?” he whispered to the darkness. “Hee Haw?” it echoed back. He was alone. Curling himself into a tight ball, he fell into a deep and troubled sleep.


زمانی که خر بیدار شد، دید که یک مرد عجیب و غریب مسن به او خیره شده است. او در چشمان او نگاه کرد و ذره‌ای احساس امیدواری کرد.

گدھا اُٹھا اور اُس نے ایک بوڑھے آدمی کو اُس کی طرف نیچے گھورتے ہوئے دیکھا۔ اُس نے اُس بوڑھے آدمی کی آنکھوں میں دیکھا تو اُسے ایک اُمید کی کرن نظر آئی۔

Donkey woke up to find a strange old man staring down at him. He looked into the old man’s eyes and started to feel a twinkle of hope.


خر رفت که با آن مرد مسن زنده‌گی کند. او به خر یاد داد که چگونه به بقای زنده‌گی خود ادامه دهد. خر به حرف‌های او گوش داد و از او یاد گرفت و همین طور مرد مسن. آن‌ها به یکدیگر کمک می‌کردند و با هم می‌خندیدند.

گدھا اُس بوڑھے آدمی کے ساتھ رہنے چلا گیا جس نے اُسے رہنے کے لیے کئی طریقے سیکھائے۔ گدھا سُنتا اور سیکھتا جس سے وہ بوڑھا آدمی بھی سیکھتا۔ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے اور مل کر ہنستے۔

Donkey went to stay with the old man, who taught him many different ways to survive. Donkey listened and learned, and so did the old man. They helped each other, and they laughed together.


یک روز صبح، مرد مسن از خر خواست که او را به بالای کوه ببرد.

ایک صبح، بوڑھے آدمی نے گدھے سے اُسے پہاڑی کی چوٹی پر لے جانے کے لیے کہا۔

One morning, the old man asked Donkey to carry him to the top of a mountain.


بر فراز قله‌ی کوه در میان ابرها، آن‌ها به خواب رفتند. خر خواب دید که مادرش مریض است واو را صدا می‌زند و وقتی که او بیدار شد…

بہت اوپر بادلوں کے درمیان وہ سو گئے۔ گدھے کو خواب آیا کہ اُس کی ماں بیمار ہے اور اُسے بُلا رہی ہے اور جب وہ جاگا۔۔۔

High up amongst the clouds they fell asleep. Donkey dreamed that his mother was sick and calling to him. And when he woke up…


ابرها به همراه دوستش، آن مرد مسن، ناپدید شده بودند.

بادل اور اُس کا دوست وہ بوڑھا آدمی دونوں غائب تھے۔

… the clouds had disappeared along with his friend, the old man.


خر نهایتا متوجه شد که باید چه کاری انجام دهد.

گدھے کو آخر کار معلوم تھا کہ اب اُسے کیا کرنا ہے۔

Donkey finally knew what to do.


خر مادرش را پیدا کرد، تنها و در ماتم از دست دادن فرزندش. آن‌ها به مدت طولانی به هم خیره شدند. وسپس خیلی محکم همدیگر را در آغوش گرفتند.

گدھے نے اپنی ماں کو اکیلا اور اپنے کھوئے ہوئے بچے کے لیے افسوس کرتے ہوئے پایا۔ وہ دونوں دیر تک ایک دوسرے کو گھورتے رہے اور پھر ایک دوسرے کو بہت زور سے گلے لگالیا۔

Donkey found his mother, alone and mourning her lost child. They stared at each other for a long time. And then hugged each other very hard.


کره خر و مادرش با هم بزرگ شدند و راه های زیادی را برای کنار هم زنده‌گی کردن پیدا کردند. کم کم، همه‌ی اطرافیانشان، دیگر خانواده‌ها در آنجا شروع به زنده‌گی کردند.

گدھا بچہ اور اُس کی ماں ایک ساتھ رہے اور زندہ رہنے کے لیے مختلف طریقے سیکھے۔ آہستہ آہستہ اُن کے ارد گرد رہنے والے باقی گھر بھی ٹھیک ہو گئے۔

The donkey child and his mother have grown together and found many ways of living side by side. Slowly, all around them, other families have started to settle.


Written by: Lindiwe Matshikiza
Illustrated by: Meghan Judge
Translated by: Abdul Rahim Ahmad Parwani (Darakht-e Danesh Library)
Language: Dari
Level: Level 3
Source: Donkey Child from African Storybook
Creative Commons License
This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.
Options
Back to stories list Download PDF