Download PDF
Back to stories list

یک دانه‌ی کوچک: داستان وانگاری ماتای ایک چھوٹا بیج: ونگاری ماتھائی کی کہانی A Tiny Seed: The Story of Wangari Maathai

Written by Nicola Rijsdijk

Illustrated by Maya Marshak

Translated by Abdul Rahim Ahmad Parwani (Darakht-e Danesh Library)

Language Dari

Level Level 3

Narrate full story The audio for this story is currently not available.


در روستایی روی سرازیری کوه کنیا در شرق آفریقا، دختر کوچکی با مادرش روی زمینی کار می‌کرد. اسم آن دختر وانگاری بود.

مشرق افریقہ میں کینیا کے پہاڑوں کے ساحل پر ایک گاؤں میں ایک چھوٹی لڑکی اپنی ماں کے ساتھ کھیتوں میں کام کر تی تھی۔ اُس کا نام ونگاری تھا۔

In a village on the slopes of Mount Kenya in East Africa, a little girl worked in the fields with her mother. Her name was Wangari.


وانگاری از بیرون بودن لذت می‌برد. درباغچه‌ی خانوادگی شان که محصولات غذایی کشت می‌شد، با کارد بزرگ خود خاک را زیر و رو می‌کرد. او دانه‌های کوچک را در زیر خاک گرم فرو می‌کرد و روی آن را با خاک می‌پوشانید.

ونگاری کو باہر رہنا پسند تھا۔ اپنے گھر کے باغیچے میں اُس نے چاقو سے مٹی کو کھودا۔ اُس نے چھوٹے بیجوں کو گرم زمین میں دبایا۔

Wangari loved being outside. In her family’s food garden she broke up the soil with her machete. She pressed tiny seeds into the warm earth.


بهترین زمان مورد علاقه ی او در طول روز، زمان غروب بود. زمانی که خیلی تاریک می‌شد و نمی‌شد گیاهان را دید، وانگاری می‌دانست که دیگر باید به خانه برگردد. او ازکنار رودخانه‌ها و مسیرهای باریکی که در بین زمین‌های کشاورزی بود، می‌گذشت.

سورج غروب ہونے کے فوراً بعد کا وقت اُس کا پسندیدہ وقت تھا۔ جب پودے دیکھنے کے لیے کافی اندھیرا ہو گیا تو ونگاری کو معلوم تھا کہ اب اُسے گھر جانے کا وقت ہے۔ وہ کھیتوں کے درمیان تنگ راستوں سے دریا کو پار کرتی ہوئی نکلی۔

Her favourite time of day was just after sunset. When it got too dark to see the plants, Wangari knew it was time to go home. She would follow the narrow paths through the fields, crossing rivers as she went.


وانگاری کودک باهوشی بود و نمی‌توانست برای به مکتب رفتن صبر کند. ولی، مادر وپدرش می‌خواستند که او بماند و به آن‌ها در خانه کمک کند. وقتی که او هفت ساله شد. برادر بزرگش، پدر و مادرش را وادار کرد که به او اجازه بدهند مکتب برود.

ونگاری ایک ہوشیار بچی تھی اور سکول جانے کے لیے بے تاب تھی۔ لیکن اُس کی امی اور ابواُسے گھر پر رکھنا چاہتے تھے، تاکہ وہ اُن کی مدد کر سکے۔ جب وہ سات سال کی ہوئی اُس کے بڑے بھائی نے امی ابو کو اس کے سکول جانے کے لیے اُکسایا۔

Wangari was a clever child and couldn’t wait to go to school. But her mother and father wanted her to stay and help them at home. When she was seven years old, her big brother persuaded her parents to let her go to school.


او به یادگیری علاقه داشت! وانگاری با خواندن هر کتاب مطالب بیشتر وبیشتری یاد گرفت. او در مکتب عالی بود، به طوری که برای ادامه تحصیل به ایالات متحد آمریکا دعوت شد. وانگاری هیجان زده بود! او می‌خواست که بیشتر در مورد دنیا بداند.

اُسے سیکھنا پسند تھا۔ ونگاری ہر کتاب کے ساتھ زیا دہ سے زیا دہ سیکھتی۔ اُس کی سکول کی شاندار کار کر دگی کی بنا پر اُسے امریکی ریاست میں پڑھنے کی دعوت ملی۔ ونگاری بہت خوش تھی۔ وہ دنیا کے بارے میں اور جاننا چاہتی تھی۔

She liked to learn! Wangari learnt more and more with every book she read. She did so well at school that she was invited to study in the United States of America. Wangari was excited! She wanted to know more about the world.


در دانشگاه آمریکا، وانگاری چیزهای جدید زیادی یاد گرفت. او در مورد گیاهان و اینکه چی گونه رشد می‌کنند، درس می‌خواند و به یاد می‌آورد که خودش چگونه بزرگ شده است. به یاد می‌آورد که چ گونه در زیر سایه درختان در جنگل‌های زیبای کنیا با برادرش بازی می‌کرد.

امریکی یونیورسٹی میں ونگاری نے بہت سی نئی چیزیں سیکھیں۔ اُس نے پودوں کے بارے میں پڑھا کہ وہ کیسے اُگتے ہیں۔ اور اُس نے یاد کیا کہ وہ کیسے بڑی ہوئی: اپنے بھائی کے ساتھ کھیل کھیلتے ہوئے کینیا کے جنگلوں کے خوبصورت درختوں کی چھاوں میں۔

At the American university Wangari learnt many new things. She studied plants and how they grow. And she remembered how she grew: playing games with her brothers in the shade of the trees in the beautiful Kenyan forests.


هر چه بیشتر یاد می‌گرفت، بیشتر می‌فهمید که چقدر مردم کنیا را دوست دارد. او می‌خواست که مردم شاد و آزاد باشند. هر چه بیشتر یاد می‌گرفت، بیشتر خانه ی آفریقایی اش را به یاد می‌آورد.

زیا دہ سیکھنے پر، اُس کا یہ احساس بڑھتا چلا گیا کہ وہ کینیا کے لوگوں سے پیار کرتی تھی۔ وہ اُنہیں خوش اور آزاد دیکھنا چاہتی تھی۔ زیا دہ سیکھنے پر اُسے اپنے افریقی گھر کی اور یاد آتی۔

The more she learnt, the more she realised that she loved the people of Kenya. She wanted them to be happy and free. The more she learnt, the more she remembered her African home.


وقتی که تحصیلاتش به پایان رسید، به کنیا برگشت. ولی شهرش تغییر کرده بود. مزرعه‌های خیلی بزرگ روی زمین گسترده شده بودند. زن‌ها دیگر هیزم برای آشپزی نداشتند. مردم فقیر بودند و کودکان گرسنه.

تعلیم مکمل ہونے پر وہ کینیا لوٹی۔ لیکن اُس کا ملک بدل چکا تھا۔ کھیت زمین پر زیا دہ پھیلے ہوئے تھے۔ عورتوں کے پاس جلانے کے لیے لکڑی نہ تھی جس پر وہ کھانا بنا سکتیں۔ لوگ غریب تھے اور بچے بھوکھے تھے۔

When she had finished her studies, she returned to Kenya. But her country had changed. Huge farms stretched across the land. Women had no wood to make cooking fires. The people were poor and the children were hungry.


وانگاری می‌دانست که چه کار کند. او به زنان یاد داد که چی گونه می‌توانند با استفاده از دانه‌ها درخت بکارند. زنان درخت‌ها را می‌فروختند و از پولش برای مراقبت از خانواده‌های شان استفاده می‌کردند. زنان خیلی خوشحال بودند. وانگاری به آن‌ها کمک کرده بود که احساس قدرت‌مندی و نیرومندی کنند.

ونگاری کو معلوم تھا کہ اُسے کیا کرنا ہے۔ اُس نے عورتوں کو بیج سے درخت اُگانا سکھائے۔ عورتوں نے درخت بیچے اور اپنے گھروں کی دیکھ بھال کی۔ عورتیں بہت خوش تھیں۔ ونگاری نے اُنہیں مضبوط بننے میں اُن کی مدد کی۔

Wangari knew what to do. She taught the women how to plant trees from seeds. The women sold the trees and used the money to look after their families. The women were very happy. Wangari had helped them to feel powerful and strong.


همچنان که زمان می‌گذشت، د‌رخت‌های جدید در جنگل‌ها رشد کردند، و رودخانه‌ها دوباره جاری شدند. پیام وانگاری در سرتاسر آفریقا پیچید. امروز میلیون‌ها درخت از بذرهای وانگاری رشد کرده اند.

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا۔ نئے درختوں نے جنگل کی صورت اختیار کر لی اور دریا دوبارہ سے بہنے لگے۔ ونگاری کا پیغام افریقہ میں پھیلنے لگا۔ آج، ونگاری کے بیجوں سے لاکھوں درخت اُگ چکے ہیں۔

As time passed, the new trees grew into forests, and the rivers started flowing again. Wangari’s message spread across Africa. Today, millions of trees have grown from Wangari’s seeds.


وانگاری سخت کار کرده بود. مردم سراسر دنیا متوجه این موضوع شدند، و به او یک جایزه‌ی عالی دادند. آن جایزه، جایزه ی صلح نوبل بود و او اولین زن آفریقایی بود که آن را دریافت می‌کرد.

ونگاری نے سخت محنت کی۔ دُنیا میں تمام لو گوں نے اُس کے کام پر غور کیا اور اُسے ایک مشہور تحفہ دیا۔ اسے نوبل امن کا تحفہ کہا جاتا ہے۔ اور یہ تحفہ حاصل کرنے والی وہ پہلی افریقی خاتون تھیں۔

Wangari had worked hard. People all over the world took notice, and gave her a famous prize. It is called the Nobel Peace Prize, and she was the first African woman ever to receive it.


وانگاری در سال 2011 از دنیا رفت، ولی ما هر وقت که به یک درخت زیبا نگاه می‌کنیم، به یاد او می‌افتیم.

ونگاری 2011 میں وفات پا گئی۔ لیکن جب بھی ہم خوبصورت درخت دیکھتے ہیں ہم اُسے یاد کر سکتے ہیں۔

Wangari died in 2011, but we can think of her every time we see a beautiful tree.


Written by: Nicola Rijsdijk
Illustrated by: Maya Marshak
Translated by: Abdul Rahim Ahmad Parwani (Darakht-e Danesh Library)
Language: Dari
Level: Level 3
Source: A Tiny Seed: The Story of Wangari Maathai from African Storybook
Creative Commons License
This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.
Options
Back to stories list Download PDF