ایک چھوٹا بیج: ونگاری ماتھائی کی کہانی

مشرق افریقہ میں کینیا کے پہاڑوں کے ساحل پر ایک گاؤں میں ایک چھوٹی لڑکی اپنی ماں کے ساتھ کھیتوں میں کام کر تی تھی۔ اُس کا نام ونگاری تھا۔

1

ونگاری کو باہر رہنا پسند تھا۔ اپنے گھر کے باغیچے میں اُس نے چاقو سے مٹی کو کھودا۔ اُس نے چھوٹے بیجوں کو گرم زمین میں دبایا۔

2

سورج غروب ہونے کے فوراً بعد کا وقت اُس کا پسندیدہ وقت تھا۔ جب پودے دیکھنے کے لیے کافی اندھیرا ہو گیا تو ونگاری کو معلوم تھا کہ اب اُسے گھر جانے کا وقت ہے۔ وہ کھیتوں کے درمیان تنگ راستوں سے دریا کو پار کرتی ہوئی نکلی۔

3

ونگاری ایک ہوشیار بچی تھی اور سکول جانے کے لیے بے تاب تھی۔ لیکن اُس کی امی اور ابواُسے گھر پر رکھنا چاہتے تھے، تاکہ وہ اُن کی مدد کر سکے۔ جب وہ سات سال کی ہوئی اُس کے بڑے بھائی نے امی ابو کو اس کے سکول جانے کے لیے اُکسایا۔

4

اُسے سیکھنا پسند تھا۔ ونگاری ہر کتاب کے ساتھ زیا دہ سے زیا دہ سیکھتی۔ اُس کی سکول کی شاندار کار کر دگی کی بنا پر اُسے امریکی ریاست میں پڑھنے کی دعوت ملی۔ ونگاری بہت خوش تھی۔ وہ دنیا کے بارے میں اور جاننا چاہتی تھی۔

5

امریکی یونیورسٹی میں ونگاری نے بہت سی نئی چیزیں سیکھیں۔ اُس نے پودوں کے بارے میں پڑھا کہ وہ کیسے اُگتے ہیں۔ اور اُس نے یاد کیا کہ وہ کیسے بڑی ہوئی: اپنے بھائی کے ساتھ کھیل کھیلتے ہوئے کینیا کے جنگلوں کے خوبصورت درختوں کی چھاوں میں۔

6

زیا دہ سیکھنے پر، اُس کا یہ احساس بڑھتا چلا گیا کہ وہ کینیا کے لوگوں سے پیار کرتی تھی۔ وہ اُنہیں خوش اور آزاد دیکھنا چاہتی تھی۔ زیا دہ سیکھنے پر اُسے اپنے افریقی گھر کی اور یاد آتی۔

7

تعلیم مکمل ہونے پر وہ کینیا لوٹی۔ لیکن اُس کا ملک بدل چکا تھا۔ کھیت زمین پر زیا دہ پھیلے ہوئے تھے۔ عورتوں کے پاس جلانے کے لیے لکڑی نہ تھی جس پر وہ کھانا بنا سکتیں۔ لوگ غریب تھے اور بچے بھوکھے تھے۔

8

ونگاری کو معلوم تھا کہ اُسے کیا کرنا ہے۔ اُس نے عورتوں کو بیج سے درخت اُگانا سکھائے۔ عورتوں نے درخت بیچے اور اپنے گھروں کی دیکھ بھال کی۔ عورتیں بہت خوش تھیں۔ ونگاری نے اُنہیں مضبوط بننے میں اُن کی مدد کی۔

9

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا۔ نئے درختوں نے جنگل کی صورت اختیار کر لی اور دریا دوبارہ سے بہنے لگے۔ ونگاری کا پیغام افریقہ میں پھیلنے لگا۔ آج، ونگاری کے بیجوں سے لاکھوں درخت اُگ چکے ہیں۔

10

ونگاری نے سخت محنت کی۔ دُنیا میں تمام لو گوں نے اُس کے کام پر غور کیا اور اُسے ایک مشہور تحفہ دیا۔ اسے نوبل امن کا تحفہ کہا جاتا ہے۔ اور یہ تحفہ حاصل کرنے والی وہ پہلی افریقی خاتون تھیں۔

11

ونگاری 2011 میں وفات پا گئی۔ لیکن جب بھی ہم خوبصورت درخت دیکھتے ہیں ہم اُسے یاد کر سکتے ہیں۔

12

ایک چھوٹا بیج: ونگاری ماتھائی کی کہانی

Text: Nicola Rijsdijk
Illustrations: Maya Marshak
Translation: Samrina Sana
Language: Urdu

This story is brought to you by the Global African Storybook Project, an effort to translate the stories of the African Storybook Project into all the languages of the world.

You can view the original story on the ASP website here

Global ASP logo

Creative Commons License
This work is licensed under a Creative Commons Attribution 3.0 Unported License.