Download PDF
Back to stories list

خواهر ووزی چه گفت؟ وُسی کی بہن نے کیا کہا؟ What Vusi's sister said

Written by Nina Orange

Illustrated by Wiehan de Jager

Translated by Abdul Rahim Ahmad Parwani (Darakht-e Danesh Library)

Language Dari

Level Level 4

Narrate full story The audio for this story is currently not available.


یک روز صبح زود، مادربزرگ ووزی او را صدا کرد و گفت، “ووزی لطفا این تخم مرغ را بگیر وبرای پدر و مادرت ببر. آن‌ها می‌خواهند کیک بزرگی برای عروسی خواهرت درست کنند.”

ایک صبح ُوسی کی نانی نے اُسے بلایا، ُوسی، مہربانی کر کے یہ انڈہ اپنے امی ابو کے پاس لے جاو۔ وہ تمہاری بہن کی شادی کے لیے ایک بڑا کیک بنانا چاہتے ہیں۔

Early one morning Vusi’s granny called him, “Vusi, please take this egg to your parents. They want to make a large cake for your sister’s wedding.”


ووزی در حالی که به سمت پدر ومادرش می‌رفت، دو پسر را دید که داشتند میوه می‌چیدند. یکی از پسرها تخم مرغ را از ووزی گرفت و آن را به درخت پرتاب کرد و تخم مرغ شکست.

اپنے والدین کی طرف جاتے ہوئے، ُوسی دو لڑکوں سے ملا جو کہ پھل چُن رہے تھے۔ ایک لڑکے نے ُوسی سے انڈہ کھینچا اور درخت پر دے مارا۔ انڈا ٹوٹ گیا۔

On his way to his parents, Vusi met two boys picking fruit. One boy grabbed the egg from Vusi and shot it at a tree. The egg broke.


ووزی گریه کرد و گفت، “شما چی کار کردید؟” “آن تخم مرغ برای کیک بود. آن کیک برای عروسی خواهرم بود. خواهرم چه خواهد گفت اگر کیک عروسی نباشد؟”

یہ تم نے کیا کیا؟ ُوسی رویا! یہ انڈہ کیک کے لیے تھا۔ کیک میری بہن کی شادی کے لیے تھا۔ میری بہن کیا کہے گی اگر اُس کی شادی پر کیک نہ ہوا؟

“What have you done?” cried Vusi. “That egg was for a cake. The cake was for my sister’s wedding. What will my sister say if there is no wedding cake?”


پسرها ناراحت شدند از اینکه ووزی را اذیت کرده بودند. یکی از آن‌ها گفت، “ما نمی‌توانیم در پختن کیک کمک کنیم، ولی اینجا یک عصا برای خواهرت است.” ووزی به سفرش ادامه داد.

لڑکے ُوسی کو تنگ کرنے پر شرمندہ تھے۔ ہم کیک کے لیے تو تمہاری مدد نہیں کر سکتے، لیکن یہ چلنے کے لیے چھڑی اپنی بہن کے لیے رکھ لو۔ ایک لڑکے نے کہا، ُوسی نے سفر جاری رکھا۔

The boys were sorry for teasing Vusi. “We can’t help with the cake, but here is a walking stick for your sister,” said one. Vusi continued on his journey.


در طول مسیر او دو مرد را در حال ساختن خانه دید. یکی از آن‌ها پرسید، “ما می‌توانیم از عصای محکمت استفاده کنیم؟” ولی عصا به اندازه‌ی کافی برای ساختن بنا محکم نبود و شکست.

راستے میں وہ دو مردوں سے ملا جو کہ گھر تعمیر کر رہے تھے۔ کیا ہم یہ مضبوط چھڑی استعمال کر سکتے ہیں؟ ایک نے پوچھا؟ لیکن چھڑی گھر تعمیر کرنے کے لیے اتنی مضبوط نہ تھی اور وہ ٹوٹ گئی۔

Along the way he met two men building a house. “Can we use that strong stick?” asked one. But the stick was not strong enough for building, and it broke.


ووزی گریه کرد وگفت، “شما چی کار کردید؟ آن عصا یک هدیه برای خواهرم بود. باغبان‌ها عصا را به من دادند چون آن‌ها تخم مرغی را که برای کیک بود شکستند. آن کیک برای عروسی خواهرم بود. ولی، حالا نه تخم مرغ، نه کیک و نه هدیه‌ای وجود دارد. خواهرم چه خواهد گفت؟”

یہ تم نے کیا کیا؟ ُوسی رویا! یہ چھڑی میری بہن کا تحفہ تھا۔ پھل چننے والوں نے مجھے یہ تحفہ دیا کیونکہ اُنہوں نے کیک کے لیے انڈہ توڑ دیا۔ کیک میری بہن کی شادی کے لیے تھا۔ اب میرے پاس نہ انڈہ ہے، نہ کیک اور نہ ہی کوئی تحفہ۔ میری بہن کیا کہے گی؟

“What have you done?” cried Vusi. “That stick was a gift for my sister. The fruit pickers gave me the stick because they broke the egg for the cake. The cake was for my sister’s wedding. Now there is no egg, no cake, and no gift. What will my sister say?”


بناها به خاطر شکستن عصا متاسف شدند. یکی از آن‌ها گفت، “ما نمی‌توانیم در پخت کیک کمک کنیم، ولی اینجا مقداری کاه برای خواهرت وجود دارد.” و بنابراین ووزی به سفرش ادامه داد.

تعمیر کرنے والے چھڑی توڑنے پر شرمندہ ہوئے۔ ہم تمہاری مدد کیک کے لیے نہیں کر سکتے۔ لیکن تمہاری بہن کے لیے کچھ گھاس ہے۔ ایک نے کہا۔ اور ُوسی نے اپناسفر جاری رکھا۔

The builders were sorry for breaking the stick. “We can’t help with the cake, but here is some thatch for your sister,” said one. And so Vusi continued on his journey.


در طول مسیر، ووزی یک کشاورز و یک گاو را دید. گاو پرسید، “چه کاه‌های خوشمزه‌ای، می‌توانم اندکی از آن را بخورم؟” ولی کاه خیلی خوش‌طعم بود تا حدی که آن گاوهمه‌ی کاه را خورد!

راستے میں، ُوسی ایک کسان اور ایک گائے سے ملا۔ کیا لذیذ گھاس ہے؟ کیا مجھے ایک گٹھی مل سکتی ہے؟ گائے نے پوچھا۔ لیکن گھاس اتنا مزیدار تھا کہ گائے سارا کھا گئی۔

Along the way, Vusi met a farmer and a cow. “What delicious thatch, can I have a nibble?” asked the cow. But the thatch was so tasty that the cow ate it all!


ووزی با گریه گفت، “شما چی کار کردید؟ آن کاه هدیه‌ای برای خواهرم بود. آن بناها آن کاه را به من داده بودند چون آن‌ها عصایی که باغبانان داده بودند را شکستند. باغبانان عصا را به من دادند چون آن‌ها تخم مرغی که برای کیک خوهرم بود را شکستند. آن کیک برای عروسی خواهرم بود. حالا نه تخم مرغ، نه کیک و نه هدیه‌ای وجود دارد، خواهرم چه خواهد گفت؟”

یہ تم نے کیا کیا؟ ُوسی رویا! وہ گھاس میری بہن کے لیے تحفہ تھا۔ تعمیر کرنے والوں نے مجھے وہ گھاس دیا کیونکہ اُنہوں نے پھل چننے والوں کی دی ہوئی چھڑی توڑ دی۔ پھل چننے والوں نے مجھے وہ چھڑی دی کیونکہ اُنہوں نے وہ انڈا توڑ دیا جو میری بہن کی شادی کے کیک کے لیے تھا۔ اور کیک میری بہن کی شادی کے لیے تھا۔ اب نہ میرے پاس انڈہ ہے، یہ کیک ہے، نہ ہی تحفہ۔ میری بہن کیا کہے گی؟

“What have you done?” cried Vusi. “That thatch was a gift for my sister. The builders gave me the thatch because they broke the stick from the fruit pickers. The fruit pickers gave me the stick because they broke the egg for my sister’s cake. The cake was for my sister’s wedding. Now there is no egg, no cake, and no gift. What will my sister say?”


آن گاو خیلی متاسف شد که شکمو بوده. کشاورز موافقت کرد که آن گاو می‌تواند به عنوان هدیه‌ای برای خواهرش با ووزی برود. پس ووزی به راهش ادامه داد.

گائے اپنے لالچی پن پر بہت شرمندہ ہوئی۔ کسان اس بات پر راضی ہوگیا کہ گائے ُوسی کے ساتھ بطور تحفہ جائے گی۔ اور اس طرح ُوسی نے اپنا سفر جاری رکھا۔

The cow was sorry she was greedy. The farmer agreed that the cow could go with Vusi as a gift for his sister. And so Vusi carried on.


ولی آن گاو در وقت شام، به سمت کشاورز دوید و ووزی در مسیر سفرش گم شد. او خیلی دیر به عروسی خواهرش رسید. مهمان‌ها در حال غذاخوردن بودند. آن‌ها می‌خوردند و می‌خوردند.

لیکن گائے بھاگتی ہوئی کسان کے پاس آئی کیونکہ وہ کھانے کا وقت تھا اور ُوسی اپنے سفر میں کہیں کھو گیا۔ وہ اپنی بہن کی شادی پر بہت دیر سے پہنچا۔ مہمان پہلے ہی کھانا کھا رہے تھے۔

But the cow ran back to the farmer at supper time. And Vusi got lost on his journey. He arrived very late for his sister’s wedding. The guests were already eating.


ووزی با گریه گفت، “چه کاری باید بکنم؟” “آن گاوی که فرار کرد، یک هدیه بود درازای کاهی که آن باها به من دادند، چون آن‌ها عصایی را که از باغبان ها گرفته بودم را شکستند. باغبان‌ها آن عصا را به من دادند، چون آن‌ها تخم مرغی را که برای کیک بود شکستند. کیک برای عروسی بود. حالا نه تخم مرغ، نه کیک و نه هدیه‌ ای وجود دارد.”

اب میں کیا کروں؟ ُوسی رویا! وہ گائے جو بھاگ گئی ایک تحفہ تھی اُس گھاس کے بدلے جو مجھے تعمیر کرنے والوں نے دیا۔ تعمیر کرنے والوں نے مجھے وہ گھاس اس لیے دی کیونکہ اُنہوں نے مجھے پھل چننے والوں کی طرف سے دی گئی چھڑی کو توڑ دیا تھا۔ پھل چننے والوں نے مجھے وہ چھڑی اس لیے دی کیونکہ اُنہوں نے کیک کے لیے انڈا توڑ دیا تھا۔ کیک شادی کے لیے تھا۔ اب نہ انڈہ ہے، نہ کیک اور نہ ہی کوئی تحفہ۔

“What shall I do?” cried Vusi. “The cow that ran away was a gift, in return for the thatch the builders gave me. The builders gave me the thatch because they broke the stick from the fruit pickers. The fruit pickers gave me the stick because they broke the egg for the cake. The cake was for the wedding. Now there is no egg, no cake, and no gift.”


خواهر ووزی چند لحظه فکر کرد وسپس گفت، “ووزی، برادرم، آن هدیه‌ها برایم اهمیتی ندارد. حتی کیک هم برایم اهمیتی ندارد! ما همه با هم اینجا هستیم و من خوشحال هستم. حالا برو لباس‌های زیبایت را بپوش وبیا این روز را جشن بگیریم!” و ووزی همان کار را انجام داد.

ُوسی کی بہن نے تھوڑی دیر کے لیے سوچا۔ پھر اُس نے کہا ُوسی میرے بھائی مجے تمہارے تحفوں کی واقعی کوئی پرواہ نہیں ہے نہ ہی مجھے اُس کیک کی پرواہ ہے۔ ہم سب یہاں اکٹھے ہیں، میں خوش ہوں۔ اب جا کر اپنے اچھے سے کپڑے پہنو، چلوآج کے دن کی خوشیاں مناتے ہیں! اور یہی ُوسی نے کیا۔

Vusi’s sister thought for a while, then she said, “Vusi my brother, I don’t really care about gifts. I don’t even care about the cake! We are all here together, I am happy. Now put on your smart clothes and let’s celebrate this day!” And so that’s what Vusi did.


Written by: Nina Orange
Illustrated by: Wiehan de Jager
Translated by: Abdul Rahim Ahmad Parwani (Darakht-e Danesh Library)
Language: Dari
Level: Level 4
Source: What Vusi's sister said from African Storybook
Creative Commons License
This work is licensed under a Creative Commons Attribution 3.0 International License.
Options
Back to stories list Download PDF